سزا یافتہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جو پہلے سزا پا چکا ہو، جس نے سزا پائی ہو۔ "یہاں کا قید خانۂ کلاں نمونہ جہنم ہے حتٰی کہ وہاں کا سزا یافتہ وہ مشقت کرتا ہے کہ زندہ نہیں نکلتا۔"      ( ١٩٠١ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٥٠٧:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سزا' کے ساتھ 'یافتن' مصدر سے مشتق حالیہ تمام 'یافتہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٠١ء سے "طلسم نوخیز جمشیدی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو پہلے سزا پا چکا ہو، جس نے سزا پائی ہو۔ "یہاں کا قید خانۂ کلاں نمونہ جہنم ہے حتٰی کہ وہاں کا سزا یافتہ وہ مشقت کرتا ہے کہ زندہ نہیں نکلتا۔"      ( ١٩٠١ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٥٠٧:٢ )